بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی مسلسل آبنائے ہرمز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وزیر خارجہ ـ جو جنگ کے دوران خاموش رہنے والوں میں شامل تھا، ـ اب آسمان و زمین کے قلابے ملا کر دعویٰ کر رہا ہے کہ آبنائے کو جنگ سے پہلے کی حالت میں لوٹنا چاہئے اور ایران کو کسی بھی عنوان سے ـ خواہ وہ محصول ہو یا خدمات کی صورت میں ـ کچھ بھی وصول نہیں نہیں کرنا چاہئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بہترین گواہی ہے اس حقیقت کی کہ آبنائے کی صورتحال کبھی پہلے کی طرح نہیں ہوگی بلکہ قطعی طور پر بدل جائے گی، کیونکہ اگر مفاہمت نامے کے مطابق آبنائے کو پرانی طرح ہونا ہوتا تو امریکی جانب اس قدر عجز و آہ نیز اس قدر نعرے اور رجز خوانیاں بے معنی ہوتیں!
حصۂ سوئم:
میدانی شواہد بھی اس تشخیص کو تقویت دیتے ہیں۔ سپاہ نیوی کی تنبیہ کے بعد تین غیرملکی ٹینکروں کی واپسی، آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر کئی بڑے ٹینکروں کا راستہ بدلنا، عمان کے ساحلوں کے قریب ایک کارگو جہاز کو 'سیکیورٹی واقعہ' پیش آنا اور بالآخر انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کا جہازوں کی نکاسی کا کام عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ، سب ہی ایران کے مرتب کردہ ضابطے کے دائرے سے باہر کے راستوں پر بڑھتے ہوئے خطروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان تمام واقعات کے مجموعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اعلان کردہ انتظامات کو نظرانداز کرنے کی کوشش نے نہ صرف بحران کا کوئی حل نہیں نکالا ہے بلکہ عالمی جہازرانی اور تجارت کے خطرات کی سطح کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے، خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان پر اپنے ردعمل میں ایکس پیغام پر اپنے پیغام کے ایک حصے میں واضح کیا کہ: "آج خلیج فارس کے کنارے کے عربوں کا استحکام، آبنائے ہرمز کی شہ رگ پر ایران کی صدیوں پرانی انتظامیہ کا مرہون منت ہے؛ مغرب نے خطے کے لئے خوف و وحشت اور قتل و غارتگری کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔ خطے کے حاشیہ نشین اور سیاسی اطفال سیاسی اطفال سفارشی بیانات سے خوش نہ ہوں؛ انہیں جاننا چاہئے کہ ان کی حیات سلامتی کے دسترخوان سے ریزہ خواری پر منحصر ہے جو ایران نے آبنائے ہرمز کو عطا کی ہے۔ بڑے معادلوں کی ازسرنو ترتیب میں، کناروں میں رہنے والے چھوٹوں کو میز پر نہیں بٹھایا جاتا، بلکہ انہیں حذف کیا جاتا ہے، اور ان کی تزویراتی حیات تہران کی برداشت کی سطح کے مرہون منت ہے۔"
عالمی معیشت کے خلاف امریکہ اور صہیونی ریاست کی مہم جوئی
تزویراتی نقطۂ نظر سے، آج آبنائے ہرمز میں جو کچھ دکھائی دے رہا ہے، وہ محض ایک بحری تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سیکیورٹی بحران کی بلاواسطہ گونج ہے جس کی جڑ امریکہ کی پالیسیوں اور خطے میں صہیونی ریاست کی جنگ جوئی میں پیوست ہے۔ جب تک واشنگٹن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے گریز کرتا رہے گا اور صہیونی ریاست کی فوجی مہم جوئی کے امتداد کی سہولت کاری کرتا رہے گا، دنیا کی توانائی کی سب سے اہم گذرگاہ پر مکمل امن کی بحالی کی توقع ایک غیرحقیقی توقع ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس صورتحال کی قیمت ادا کرنا، مزید صرف ملوث فریقوں تک محدود نہیں رہے گا: عالمی توانائی کی منڈی بحران سے دوچار ہوگی، انشورنس کمپنیاں کوریج دینے سے گریز کریں گی، شپنگ لائنیں رک جائیں گی، اشیا کی سپلائی چین میں رکاوٹ پڑے گی، بین الاقوامی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، اور یوں دنیا کے تمام ممالک اور حکومتوں کو امریکہ اور صہیونی ریاست کی شرانگیزیوں اور مہم جوئیوں سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے نتائج برداشت کرنا پڑیں گے۔ نقل و حمل کی لاگت میں کوئی بھی اضافہ، انشورنس پریمیم میں اضافہ، جہازوں کا راستہ تبدیل کرنا اور توانائی کی برآمدات میں خلل، بالآخر پوری دنیا میں صارفین کے لئے اقتصادی اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا، جو بہت سے غریب ممالک کے لئے ناقابل برداشت ہونگے۔
ہرمز کا تالا دباؤ کی چابی سے نہیں کھلتا
چنانچہ، حالیہ دنوں کے واقعات اور تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی حل تلاش کرنے، سیاسی دباؤ ڈالنے یا متبادل راستے بنانے سے آبنائے ہرمز میں پائیدار امن کا قیام 'ناممکن' ہے۔ اس آبی گذرگاہ کا امن اس وقت پائیدار شکل میں قائم ہوگا جب بحران کی جڑیں ختم کر دی جائیں؛ وہ جڑیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطۂ نظر سے خطے میں امریکی فوجی دستوں کی مسلسل موجودگی، واشنگٹن کی صہیونی ریاست کی جنگ پرستی (Warmongering) کی حمایت اور جنوبی لبنان میں اس ریاست کے قبضے کے تسلسل میں پیوست ہیں۔
لہٰذا، ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت نامے کی پہلی شق میں درج ذمہ داریوں کی مکمل پابندی، واشنگٹن کی بے حسی اور بے عملی کا خاتمہ، امریکی فوجوں کا خطے سے انخلاء، پورے محور مقاومت کے خلاف صہیونی ریاست کے فوجی اقدامات کو روکنا اور اس ریاست کے دستوں کا جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے انخلاء، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے؛ ایسا راستہ کہ جس کی خلاف ورزی دنیا کی توانائی کی اہم ترین آبی گذرگاہ (ابنائے ہرمز) کو عدم تحفظ اور خلل سے دوچار کرتی ہے اور اس کے نتائج پوری عالمی معیشت کو خلل اور شدید نقصانات کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رحیم زیادعلی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ